جے یو آئی کی باوردی فورس کے خلاف حکومت کا بڑا ایکشن

جے یو آئی کی باوردی فورس کے خلاف حکومت کا بڑا ایکشن فائل فوٹو جے یو آئی کی باوردی فورس کے خلاف حکومت کا بڑا ایکشن

خیبرپختونخوا حکومت نے جمیعت علمائے اسلام (ف) کے باوردی دستے کے خلاف ایکشن کا اعلان کردیا ہے۔ صوبائی وزیر اطلاعات کے پی کے شوکت یوسفزئی نے کہا ہے کہ مسلح جتھے بنانا آئین پاکستان اور نیشنل ایکشن پلان کی خلاف ورزی ہے، جے یو آئی کے اس اقدام کے خلاف مقدمہ درج کرکے کارروائی کی جائے گی۔

انہوں نے جے یو آئی کے ڈنڈا بردار باوردی فورس انصار الاسلام کے پشاور میں نکالے جانے والے مارچ کو ریاستی عمل داری کے لیے چیلنج قرار دیا ہے۔ صوبائی وزیر نے مزید کہا کہ جے یو آئی کے اس اقدام کے خلاف مقدمہ درج کرکے کارروائی کی جائے گی۔اس کے جواب میں جے یو آئی خبیر پختونخوا کے ترجمان عبدالجلیل جان نے کہا کہ انصار الاسلام جے یو آئی کا ایک سیکورٹی شعبہ ہے، جو پارٹی کے دستور کی شق نمبر 26 میں درج ہے، جوکہ الیکشن کمیشن میں جمع کرایا گیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پارٹی کے تمام اجتماعات میں رضاءکار سیکیورٹی خدمات انجام دیتے ہیں، رضاکاروں کو اسلحہ رکھنے کی اجازت نہیں ہوتی،ان کا کام کارکنان میں نظم وضبط قائم رکھنا ہے۔ جے یو آئی ترجمان نے مزید کہا کہ اگر رضاء کار قانون ہاتھ میں لیں تو حکومت کاروائی کرسکتی ہے۔ عبدالجلیل جان نے یہ بھی کہا کہ پشاور میں ہونے والے مارچ کی ضلعی انتظامیہ سے تحریری اجازت لی گئی تھی، اجازت نامہ میں انصار الاسلام کو اپنی سیکیورٹی کی ذمہ داری بھی سونپی گئی تھی۔

دوسری جانب جمیعت علمائے اسلام (ف) ے رہنما سینیٹر مولانا عطاالرحمن نے کہا ہے کہ حکومت کو ابھی پتا ہی نہیں ہے کہ ان کے ساتھ کتنے لوگ آرہے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان کے پاس 1لاکھ ڈنڈا بردار فورس ہے۔ مولانا عطاالرحمن نے کہا ہے کہ ہم آئیں گے اور حکومت بہہ جائے گی۔

install suchtv android app on google app store