نااہل اور ناجائزحکومت کو کشمیریوں کے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا حق نہیں: فضل الرحمٰن

پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن فائل فوٹو پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن

پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ ناجائز اورنااہل حکومت کو کشمیریوں کے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا کوئی حق حاصل نہیں ہے۔

مظفرآباد میں یوم یک جہتی کشمیر کے سلسلے میں منعقدہ جلسے سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ آج پورے پاکستان میں کشمیر کے عوام کے ساتھ یک جہتی کا دن منایا جارہا ہے اور پی ڈی ایم کی قیادت براہ راست یک جہتی کا مظاہرہ کرنے کے لیے مظفر آباد میں موجود ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہر کشمیری پاکستان کے ساتھ ہے، اس کا دل اور جذبات پاکستان سے وابستہ ہیں اورجو لوگ کشمیریوں کو پاکستان سے الگ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں آنے والی تاریخ انہیں معاف نہیں کرے گی۔

انہوں نے کہا کہ کشمیریوں نے پاکستان سے الحاق کافیصلہ کیا اور آج بھی اس پر قائم ہیں لیکن جب تک پاکستان میں عوام کی نمائندہ حکومت تھی تو کسی مودی کو یہ جرات نہیں ہوسکی کہ وہ مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرکے اس کو بھارت کا صوبہ بنا سکے۔

ان کا کہنا تھا کہ آج عمران خان اور اس کی لابی کشمیر کی تقسیم کا سوچ رہی ہے، اسی سوچ کی بنیاد پر آج مودی نے موقع پا کر کہ پاکستان کی طرف سے کوئی ردعمل نہیں آئے گا تو کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کردی، جس طرح عمران خان نے الیکشن سے پہلے کہا تھا کہ اللہ کرے مودی جیت جائے، وہ کشمیر کامسئلہ حل کر دے گا۔

مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ یہ واحد آدمی تھا جس نے اقتدار میں آنے سے پہلے کشمیر کو تین حصوں میں تقسیم کرنے کا فارمولا پیش کیا تھا، اس کے منشور کا حصہ تھا کہ کشمیر کو تقسیم کردیا جائے اورپھر انہوں نے گلگت بلتستان میں جا کر اس کو پاکستان کا صوبہ بنانے کی بات کی۔

انہوں نے کہا کہ میں آج بھی سمجھتا ہوں کہ آزاد کشمیر ہو یا گلگت بلتستان کا بچہ بچہ پاکستانی ہے، پاکستانی ہونے کے ناطے ہمیں ان کے جذبات پر کوئی شک نہیں ہے لیکن بین الاقوامی سطح پر معاملے کی حیثیت کو بھی نظر اندازنہیں کیا جا سکتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر بھارت کہتا ہے کہ کشمیر ہمارا اٹوٹ انگ ہے اور وہ بھارت کا جغرافیائی حصہ ہے تو یہ اقوام متحدہ کی 1949 کی قرار دادوں کی مخالفت ہے، بھارت نے عالمی سطح پر بین الاقوامی فورم، اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل کی قرار دادوں سے غداری کی ہے، جو غداری انہوں نے کی تھی وہی آج غداری کا مرتکب ہو رہا ہے۔

صدر پی ڈی ایم نے کہا کہ آپ عزت دیں،وسائل دیں، روزگار اورخوش حال زندگی دیں اس پر کسی کو اعتراض نہیں لیکن کشمیر کی حیثیت تبدیل کرنا پورے کشمیر کے ساتھ غداری کے مترادف ہے۔

انہوں نے کہا کہ آج ہم نے یہاں مظفرآباد میں دو حیثیتوں میں جلسہ کیا ہے، ایک 5 فروری کو یوم یک جہتی کے طور پر اور اس میں احتجاج شامل ہے کہ کشمیریوں کی خواہشات کے برعکس کشمیر کا سودا کیا گیا ہے اور بھارت نے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کی، اس کے خلاف ہم یہاں آئے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ کشمیر ایک ایسا ترنوالہ نہیں کہ آپ آسانی سے اس کو نگل سکیں گے، جب تک میں کشمیر کمیٹی کا چیئرمین رہا تو بھارت کو جرات نہیں ہوسکی، آج آپ کو پتہ ہے کہ کشمیر کا وزیر اور اس کا چیئرمین کون ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ناجائز اور نااہل حکومت کو کشمیریوں کے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا کوئی حق حاصل نہیں ہے۔

 

subscribe YT Channel install suchtv android app on google app store