مودی حکومت نے ظلم کی انتہا کر دی، بھارتی شہریوں کو مقبوضہ وادی میں زبردستی جائیداد کی خرید و فروخت کا حق دے دیا

 مقبوضہ وادی فائل فوٹو مقبوضہ وادی

مقبوضہ جموں و کشمیر اور لداخ کو تقسیم کرنے کے بھارتی قوانین پر عمل درآمد شروع ہونے کے بعد بھارتی شہریوں کو مقبوضہ وادی میں جائیداد کی خرید و فروخت کا حق حاصل ہو گیا۔

بھارت نے 5 اگست کو مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کر کے مقبوضہ کشمیر اور لداخ کو دو حصوں میں تقسیم کرتے ہوئے زبردستی بھارتی یونین کا حصہ بنا دیا تھا۔

مقبوضہ کشمیر کی آئینی حیثیت ختم کرنے کی بھارتی فیصلے کو باضابطہ شکل دے دی گئی ہے اور آج سے بھارتی شہریوں کو مقبوضہ کشمیر میں جائیدادیں خریدنے اور رہنے کا حق حاصل ہو گیا ہے۔ بھارتی اقدام کے باعث مقبوضہ جموں کشمیر کا پرچم اور آئین بھی ختم کر دیا گیا ہے اور یکم نومبر تک مقبوضہ کشمیر میں دفعہ 144 نافذ کر دی گئی ہے۔

بھارتی میڈیا کے مطابق نئے یونٹس میں زیادہ اختیارات نئی دلی کے پاس موجود ہوں گے، جموں و کشمیر کے لیے گریش چندر مرمو کو اور لداخ کے لیے آر کے ماتھر کو گورنر مقرر کیا گیا ہے۔ بھارتی میڈیا کے مطابق مقبوضہ جموں کشمیر یونٹ کے نئے لیفٹیننٹ، گورنر ہوں گے اور لداخ یونٹ کو بھی لیفٹیننٹ گورنر کے ذریعے چلایا جائے گا۔

پہلے سے جموں کشمیر میں تعینات گورنر ستیا پال ملک کو گواکا نیا گورنر مقرر کر دیا گیا ہے۔ دوسری جانب بھارتی اقدام کے بعد لداخ کے بُدھ باشندوں کے لیے تشویش شدت اختیار کر گئی ہے۔

install suchtv android app on google app store