پی آئی اے ملازمین نے پرزہ جات کے بعد ٹشو پیپرز بھی نہ چھوڑے، بڑا انکشاف

پی آئی اے ملازمین نے  پرزہ جات کے بعد ٹشو پیپرز بھی نہ چھوڑے فائل فوٹو پی آئی اے ملازمین نے پرزہ جات کے بعد ٹشو پیپرز بھی نہ چھوڑے

قومی ائیرلائن پی آئی اے کی فلائٹس اور مختلف دفاتر میں استعمال کے لیے تیار کرائے جانے والے ٹیشو پیپر کراچی کی ہیئر ڈریسر شاپ پر استعمال ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔

ذرائع کے مطابق پی آئی اے ملازمین نے خوراک اور پرزہ جات کے بعد ٹشو پیپرز بھی نہ چھوڑے اور قومی ائیر لائن کے پرنٹ کردہ ٹشو پیپر زگلشن اقبال کے معروف سیلون پر استعمال ہونے لگے ہیں۔

سیلون کے مالک نے دعویٰ کیا ہے کہ پی آئی اے کے ٹشو پیپرز 500 روپے فی کلو کے حساب سے خرید رہا ہے اور وہ کافی عرصے سے پی آئی اے کے معیاری ٹشو پیپرز خرید رہا ہے۔

ائیر لائن ذرائع کا کہنا ہے کہ ٹشو پیپرز پی آئی اے فلائٹ کچن کے کچرے میں شامل کرکے چرائے جاتے ہیں، ٹشو پیپرز کے علاوہ کٹلری اور دیگر سامان بھی چرا کر مارکیٹ میں فروخت کیا جاتا ہے۔

ذرائع کے مطابق فلائٹ کچن سے سامان چرانے میں پی آئی اے ملازمین اور ٹھیکیدار ملوث ہوتے ہیں۔

پی آئی اے لوگو والے ٹشوپیپرز کی مارکیٹ میں فروخت کئے جانے کی اطلاع پر انتظامیہ نے نوٹس لیتے ہوئے ملوث افراد کے خلاف قانونی و محکمہ جاتی کارروائی کرنے کا عندیہ دیا ہے۔

subscribe YT Channel install suchtv android app on google app store