جج ارشد ملک ویڈیو اسکینڈل: سپریم کورٹ کا اٹارنی جنرل کو نوٹس جاری

سپریم کورٹ میں جج ارشد ملک سے متعلق درخواستوں کی سماعت آج فائل فوٹو سپریم کورٹ میں جج ارشد ملک سے متعلق درخواستوں کی سماعت آج

سپریم کورٹ نے جج ارشد ملک ویڈیو کیس میں اٹارنی جنرل کو نوٹس جاری کردیا۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ عدالت ڈیمانڈ پرنہیں چلتی، کسی کے کہنے پرلیا گیا نوٹس سوموٹو نہیں ہوگا۔ویڈیو سیکنڈل غیرمعمولی واقعہ ہے، اٹارنی جنرل کی معاونت چاہتے ہیں، درخواستیں آئی ہیں تو فیصلہ بھی کریں گے۔

سپریم کورٹ میں جج ارشد ملک ویڈیو کیس کی سماعت پر چیف جسٹس نے ریمارکس میں کہا کہ آزاد لوگ خود کام کرتے ہیں کسی کے کہنے پرنہیں، سوموٹو عدالت خود لیتی ہے،کسی کی ڈیمانڈ پرلیا گیا نوٹس سوموٹو نہیں ہوتا۔

اس موقع پروکیل نے جوڈٖیشل کمیشن کی تشکیل کی استدعا کرتے ہوئے کہا کہ انکوائری کمیشن الزامات اورجواب کی سچائی کا تعین کرے گا۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ کمیشن بن بھی گیا تو اسکی رائے ثبوت نہیں ہو گی، ذمہ دار لوگوں کو عمومی بیانات سے اجتناب کرنا چائیے، یہ کہنا درست نہیں کہ سب وکیل، جج، پولیس اور سیاست دان برے ہیں، جو لوگ برے نہیں ہوتے انکی دل آزاری ہوتی ہے، نواز شریف کی اپیل ہائیکورٹ میں زیرالتوا ہے، ہائیکورٹ میں اپیل پر کمیشن رپورٹ اثر انداز ہوسکتی ہے، عدالت کے سامنے سب برابر ہیں کوئی ہائی پروفائل نہیں۔

چیف جسٹس نے ریمارکس میں کہا کہ جے آئی ٹی عدالت نے اپنی معاونت کے لئے بنائی تھی، بےشک ججز کی ساکھ بہت اہم ہے، ویڈیو سیکنڈل کا جائزہ لینا ضروری ہے، سوال یہ ہے جائزہ کون اور کس طرح لےگا،

جسٹس عمرعطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوے کہا کہ فیصلہ درست ہے یا غلط فیصلہ اعلیٰ عدلیہ کرے گی، جو دھول ابھی اٹھ رہی ہے اسے چھٹنا ہے، عدلیہ نے جذبات نہیں سنجیدگی سے معاملہ دیکھنا ہے، پہلا سوال عدلیہ کی ساکھ کا ہے، دوسرا سوال فیصلہ درست ہونے یا نہ ہونے کا ہے، تیسرا سوال جج کے کنڈکٹ کا ہے۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ توہین عدالت کا مطلب ہوگا جج پر الزام غلط ہیں، قانون اپنا راستہ خود بناتا ہے، اٹارنی جنرل کی معاونت چاہتے ہیں، جانبداری ثابت ہوجائے تو فیصلے پر اثر پڑتا ہے، انکوائری اس پہلو کی بھی ہوگی دبائو فیصلے سے پہلے تھا یا بعد میں،

سپریم کورٹ نے اٹارنی جنرل کو نوٹس جاری کرتے ہوے سماعت 23 جولائی تک ملتوی کردی۔

install suchtv android app on google app store