خواجہ آصف نے کھل کر شہباز اور مریم میں اختلاف کی وضاحت کردی

مسلم لیگ نواز کے رہنما خواجہ آصف فائل فوٹو مسلم لیگ نواز کے رہنما خواجہ آصف

مسلم لیگ نواز کے رہنما خواجہ آصف نے کہاہے کہ اگر کسی پارٹی میں مختلف آراءنظر آتی ہیں تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ پارٹی میں کوئی جنگ شروع ہوگئی ہے، اگر شہباز شریف اور مریم نواز میں کوئی اختلاف ہے تواس کا مطلب یہ نہیں کہ اس کوجنگ قرار دیا جائے ، ایسی کوئی بات نہیں ہے۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ ہماری پارٹی میں بیانیہ نواز شریف کاہے، اس میں کسی قسم کا رتی بھر بھی شک نہیں ہے لیکن ایک بات پر سب متفق ہیں کہ بیانیہ نواز شریف کا ہے اور نواز شریف کا ہی بیانیہ چلے گا جو آئین کا بیانیہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر کسی پارٹی میں مختلف آراء نظر آتی ہیں تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ پارٹی میں کوئی جنگ شروع ہوگئی ہے، اگر شہباز شریف اور مریم نواز میں کوئی اختلاف ہے تواس کا مطلب یہ نہیں کہ اس کو جنگ قرار دیا جائے، ایسی کوئی بات نہیں ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا پارٹی میں اس بات پر اختلافات ہیں کہ حکومت کے خلاف تحریک اس وقت نہ چلائی جائے جب تک حکومت پوری طر ح بے نقاب نہ ہوجائے لیکن ہم حکومت کے خلاف احتجاج کرتے رہیں گے ۔

خواجہ آصف نے کہاہے کہ میں خود اس بات کا حامی ہوں کہ تحقیقاتی کمیشن 2002سے لیکر 2019تک بننا چاہئے ، یہ حساب کتاب ہونا چاہئے اور یہ سلیکٹڈ نہیں ہونے چاہئے بلکہ ق لیگ اور تحریک انصاف کی حکومت کا بھی حساب ہونا چاہئے کیونکہ جو قرضہ تحریک انصاف کی حکومت نے لیا ہے، اس کا بھی حساب دیا جائے، ہماری حکومت نے پچھلے سال 15سو ارب سود دیا تھا لیکن تحریک انصاف نے 29سو ارب سود دیا ہے، ان کی جانب سے 14سو ارب روپے زیادہ سود کیسے دیا گیا ہے؟ ان کا کہنا تھاکہ میں شہباز شریف اور مریم نواز پالیسی کے درمیان کھڑا ہوں ، میر ی رائے نواز شریف کے بالکل قریب ہوگی ۔

subscribe YT Channel install suchtv android app on google app store