Thu 23 November 2017

سول ملٹری تعلقات حساس معاملہ ہے: چوہدری نثار

وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے ڈان اخبار میں شائع ہونے والی خبر کے معاملے پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اتنا بڑا مسئلہ نہیں تھا، جتنا اسے بنا دیا گیا۔ اسلام آباد میں پریس کانفرنس کے دوران وزیر داخلہ سے ڈان اخبار کی خبر کے معاملے پر سوالات کی بوچھاڑ کردی گئی۔

صحافیوں کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ 'سول ملٹری تعلقات ایک سنجیدہ موضوع ہے اور اس کا تماشا نہیں بنایا جانا چاہیئے، نہ ہی اس پر سیاست ہونی چاہیئے، لیکن پاکستان میں اس پر سیاست ہوتی ہے'۔

انھوں نے کہا کہ 'سول ملٹری تعلقات کا تناظر سیاسی نہیں قومی ہے اور اس پر بلاجواز تبصروں اور اظہار خیال کی ضرورت نہیں'۔

وزیرداخلہ نے کہا، 'یہ معاملہ اب ختم ہوچکا ہے اور اس پر بیان بیازی میرے لیے حیران کن نہیں، پریشان کن ہے'، ساتھ ہی انھوں نے کہا کہ ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف ٖغفور بھی کہہ چکے ہیں کہ ڈان خبر کی تحقیقات کا معاملہ اب ختم ہوچکا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس معاملے پر اگر حکومت کو کسی شخص یا گروپ کو بچانا ہوتا تو اس پر دو کمیٹیاں نہ بنتیں، ڈان کی خبر کی انکوائری رپورٹ متفقہ تھی، صرف طریقہ کار پر اختلاف رائے تھا، جو کل حل ہوگیا۔

انھوں نے بتایا کہ وزیراعظم ہاؤس ان معاملات میں نوٹیفکیشن جاری نہیں کرتا، وہ صرف احکامات تھے اور ہمیں (وزارت داخلہ کو) اسی دن سفارشات کی روشنی میں نوٹیفکیشن جاری کرنا تھا، لیکن رکاوٹوں کی وجہ سے جاری نہیں ہوسکا۔

وزیر داخلہ نے کہا کہ 'ہمارے دشمن چاہتے ہیں کہ پاکستان میں سول ملٹری تنازعات کھڑے ہوں، لہذا جتنی ہم آہنگی کی آج ضرورت ہے، اس سے پہلے کبھی نہیں تھی'۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ 'اس ہم آہنگی میں رخنہ اور شگاف ڈالنے سے پاکستان کی خدمت نہیں ہورہی'۔

وزیر داخلہ چوہدری نثار نے یہ پریس کانفرنس ایک ایسے وقت میں کی ہے جب گذشت روز پاک فوج نے ڈان اخبار میں شائع ہونے والی خبر سے متعلق حکومتی احکامات کو ’مسترد‘ کیے جانے کے حوالے سے کی جانے والی ٹوئیٹ واپس لینے کا اعلان کیا تھا۔

یاد رہے کہ 6 اکتوبر 2016 کو ڈان اخبار میں شائع ہونے والی ایک خبر کی تحقیقات کے لیے حکومت نے نومبر 2016 میں جسٹس ریٹائرڈ عامر رضا خان کی سربراہی میں 7 رکنی تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دی تھی۔

مذکورہ خبر سول ملٹری تعلقات میں تناؤ کا سبب بنی تھی، جس کے بعد وزیر اعظم ہاؤس کی جانب سے 3 دفعہ اس کی تردید بھی جاری کی گئی تھی۔

اس سے قبل اہم خبر کے حوالے سے کوتاہی برتنے پر وزیراعظم نوازشریف نے اکتوبر 2016 میں ہی پرویز رشید سے وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات کا قلم دان واپس لے لیا تھا۔

سرکاری اعلامیے میں کہا گیا تھا کہ اخبار میں چھپنے والی خبر قومی سلامتی کے منافی تھی اور تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ پرویز رشید نے کوتاہی برتی، یہی وجہ ہے کہ انہیں آزادانہ تحقیقات کے لیے وزارت چھوڑنے کی ہدایت کی گئی۔

دوسری جانب خبر رپورٹ کرنے والے صحافی سرل المیڈا کا نام بھی ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) میں ڈال دیا گیا تھا، جسے بعدازاں خارج کردیا گیا۔

اپنے اداریے میں ڈان نے اپنے موقف کی وضاحت کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’خبر تصدیق شدہ تھی جس میں موجود حقائق کو مختلف ذرائع سے جانچا گیا تھا‘۔

ڈان اخبار کی خبر کے معاملے پر انکوائری کمیٹی کی سفارشات گذشتہ ماہ کے آخر میں وزیراعظم نواز شریف کو ارسال کی گئی تھیں۔

بعدازاں 29 اپریل کو وزیراعظم ہاؤس سے جاری ہونے والے اعلامیے میں کہا گیا کہ ڈان خبر کے معاملے پر وزیراعظم نواز شریف کے معاون خصوصی برائے امور خارجہ طارق فاطمی کو عہدے سے برطرف کر دیا گیا تھا۔

دوسری جانب پرنسپل انفارمیشن آفیسر راؤ تحسین علی خان کے خلاف بھی ایفیشنسی اینڈ ڈسپلن (ای اینڈ ڈی) رولز 1973 کے تحت کارروائی کا حکم دیا گیا تھا۔

لیکن کچھ دیر بعد ہی پاک فوج نے حکومت کی جانب سے جاری اعلامیے کو نامکمل قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا تھا۔

آئی ایس پی آر کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل آصف غفور نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’ٹوئٹر‘ پر جاری اپنے پیغام میں کہا تھا کہ ’ڈان کی خبر کے حوالے سے جاری ہونے والا اعلامیہ نامکمل اور انکوائری بورڈ کی سفارشات سے مطابقت نہیں رکھتا، اس لیے نوٹیفکیشن کو مسترد کرتے ہیں۔‘

اس ٹوئیٹ کے بعد سول ملٹری تعلقات کے حوالے سے مختلف قسم کی قیاس آرائیاں گردش کرنے لگیں، تاہم گذشتہ روز آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ ’29 اپریل کا ٹوئیٹ غیر موثر ہوگیا ہے، فوج جمہوری عمل کی حمایت اور آئینی بالادستی کےعزم کا اعادہ کرتی ہے‘۔

آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری ہونے والی پریس ریلیز میں مزید کہا گیا کہ ’29 اپریل کا ٹوئیٹ کسی ادارے یا شخصیت کے خلاف نہیں تھا‘۔

پریس ریلیز میں یہ بھی کہا گیا کہ ڈان کی خبر کے حوالے سے قائم کی جانے والی انکوائری کمیٹی کی رپورٹ کے پیرا 18 میں کی جانے والی سفارشات کی وزیراعظم نے باضابطہ طور پر منظوری دی اور پھر اس کا نفاذ ہوا جس کے بعد ڈان کی خبر کا معاملہ نمٹ گیا۔

بعدازاں وزارت داخلہ کی جانب سے بھی نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا تھا۔

Leave a comment

Make sure you enter all the required information, indicated by an asterisk (*). HTML code is not allowed.