پی ٹی آئی کو فیض آباد پر جلسے کی مشروط اجازت، اسلام آباد کے راستے سیل

اسلام آباد کے راستے سیل فائل فوٹو اسلام آباد کے راستے سیل

پاکستان تحریک انصاف کو فیض آباد میں جلسے سے روک دیا گیا، جس کے بعد پی ٹی آئی انتظامیہ نے جلسے کا اسٹیج فیض آباد سے رحمان آباد منتقل کردیا۔

انتظامیہ کی جانب سے شرائط کی خلاف ورزی کے باعث جلسے کا اسٹیج لگانے سے منع کیے جانے کے بعد پی ٹی آئی رہنما شبلی فراز فیض آباد مری روڑ پہنچ گئے، جہاں انہوں نے بتایا کہ مرکزی اسٹیج کو فیض آباد سے رحمان آباد منتقل کیا جا رہا ہے۔ قبل ازیں فیض آباد میں جلسے کا اسٹیج لگانے پر راولپنڈی انتظامیہ اور پی ٹی آئی کے مابین اختلاف تھا، جس پر راولپنڈی انتظامیہ نے جگہ تبدیل کرنے کی تجویز دی تھی۔

پی ٹی آئی رہنما شبلی فراز نے کہا کہ کبھی اسلام آباد انتظامیہ رکاوٹیں ڈال رہی ہے، اور اب نیا ڈراما شروع کردیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ جلسہ مری روڑ ہی پر ہوگا، مگر فیض آباد سے 2 کلو میٹر آگے ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے جلسے کو خراب کرنے کے لیے تمام وسائل استعمال کیے جا رہے ہیں، لیکن ایسے معاملات سے ہمارے حوصلوں میں مزید اضافہ ہوجاتا ہے۔ اب آگے مری روڈ سکستھ روڈ فلائی اوور پر جلسہ کریں گے۔

دریں اثنا پی ٹی آئی 26 نومبر کی احتجاجی ریلی کے اجازت نامے کے لیے تاحال اسلام آباد انتظامیہ کو عمران خان کا دستخط شدہ معاہدہ پیش نہ سکی۔ اس سے پہلے تحریک انصاف کی مقامی قیادت نے انتظامیہ کو معاہدے پر عمران خان کے دستخط شدہ بیان حلفی کی یقین دہانی کرائی تھی، جس پر انتظامیہ نے سیاسی رہنماؤں کی یقین دہانی کے بعد مشروط طور پر اجازت دی۔

انتظامیہ کے مطابق مشروط اجازت کے بعد تحریک انصاف کی جانب سے شرائط پر عمل درآمد نہیں کیا جا رہا جب کہ انتظامیہ نے 36 شرائط پر تحریک انصاف کو معاہدے پر عمل سے مشروط اجازت دی تھی۔ ذرائع کے مطابق صورت حال کے پیش نظر تحریک انصاف چیئرمین کی جانب سےعمل درآمد نہ کرنے پر انتظامیہ نے این او سی منسوخی پر غور شروع کر دیا ہے۔

 

علاوہ ازیں پی ٹی آئی نے اسلام آباد انتظامیہ کو ایک خط لکھا ہے، جس میں عمران خان کے ہیلی کاپٹر کی لینڈنگ اور ٹیک آف کی تحریری اجازت طلب کی گئی ہے۔ ڈپٹی کمشنر اسلام آباد کی جانب سے خط وصول ہونے کی تصدیق کردی گئی ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ ممکنہ ایمرجنسی کی صورت میں ہیلی کاپٹر کا جلسہ گاہ کے قریب تر ہونا ضروری ہے۔اجازت کے لیے خط پی ٹی آئی رہنما علی نواز اعوان کی جانب سے ڈپٹی کمشنر اسلام آباد کو لکھا گیا ہے، جس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ 26 نومبر صبح 11 سے شام 5 بجے تک ہیلی کاپٹر لینڈنگ اور ٹیک آف کی اجازت دی جائے۔

قبل ازیں پاکستان تحریک انصاف کو فیض آباد کے قریب دھرنے کی مشروط اجازت دی گئی تھی، اس کے ساتھ ہی دارالحکومت جانے والے کئی راستوں کو سیکڑوں کنٹینر کھڑے کرکے مکمل سیل بھی کردیا گیا تھا۔

پی ٹی آئی کو فیض آباد کے قریب دھرنے کی اجازت سے متعلق راولپنڈی انتظامیہ نے 56 نکات پر مشتمل اجازت نامہ جاری کیا تھا۔ اس سلسلے میں نوٹیفکیشن میں کہا گیا تھا کہ برطانیہ کی کرکٹ ٹیم کھیلنے کے لیے راولپنڈی پہنچ رہی ہے، لہٰذا جلسہ کرنے کے بعد جگہ کو مکمل طور پر خالی کیا جائے گا۔

نوٹیفکیشن میں راولپنڈی پولیس کو جلسے کے لیے تمام ضروری سکیورٹی اقدامات کرنے کے احکامات بھی جاری کیے گئے تھے۔ ساتھ ہی وضاحت کی گئی تھی کہ چیئرمین پی ٹی آئی، اسلام آباد انتظامیہ اور سکیورٹی اداروں کی جانب سے طے شدہ راستہ استعمال کریں گے۔ عمران خان جلسے سے پہلے اور جلسے کے بعد سن روف والی گاڑی بھی استعمال نہیں کریں گے۔

اجازت نامے میں ہدایت کی گئی تھی کہ علامہ اقبال پارک کو کارکنان کے رکنے کے لیے استعمال نہیں کیا جائے گا اور پروگرام کے بعد بالکل خالی کر دیا جائے گا۔ جلسے اور دھرنے کے دوران ریاست مخالف نعرے بازی کی بالکل اجازت نہیں ہوگی۔ ٹریفک پولیس کی جانب سے جاری ٹریفک پلان پر مکمل طور پر عملدرآمد یقینی بنایا جائے گا۔

 

نوٹیفکیشن میں بتایا گیا تھا کہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے یا جانی نقصان کی ذمے دار جلسہ انتظامیہ ہوگی۔ جلسے و دھرنے میں ڈرون کیمرے کے استعمال کی بالکل اجازت نہیں ہوگی اور شرائط و ضوابط کی خلاف ورزی پر قانونی کارروائی کی جائے گی۔ اسلام آباد انتظامیہ نے اجازت نامے کی کاپیاں تمام متعلقہ اداروں کو بھجوا ئی تھیں۔

پی ٹی آئی جلسے اور دھرنے کے پیش نظر دارالحکومت اور راولپنڈی کو جوڑنے والے مقام فیض آباد فلائی اوور کو چاروں اطراف سے مکمل سیل کردیا گیا تھا، جس کی وجہ سے براستہ فیض آباد اسلام آباد آنے والے لوگوں کوشدید دشواری کا سامنا کرنا پڑا جب کہ بند کیے گئے راستوں پر بدترین ٹریفک جام میں پھنسی گاڑیوں کی طویل قطاریں لگ گئیں۔

راستوں کی بندش خصوصاً راولپنڈی کی مرکزی شاہراہیں بند ہونے کے باعث راولپنڈی ڈبل روڈ پر بدترین ٹریفک جام ہے۔ علاوہ ازیں آئی جے پی روڈ پر ٹریفک جام میں گاڑیاں پھنسی ہوئی ہیں۔راولپنڈی مری روڈ اور رابطہ سڑکوں پر بھی ٹریفک جام ہے اور رش میں ایمبولینسیں بھی پھنسی ہوئی ہیں۔

ٹریفک پولیس کے مطابق اسلام آبادسے راولپنڈی براستہ مری روڈ جانے والوں کے لیے فیض آباد پر ڈائیورشن لگادی گئی ہے جب کہ راولپنڈی سے اسلام آباد میں داخلے کے لیے پرانا ائرپورٹ اور اسٹیڈیم روڈ استعمال کیے جاسکتے ہیں۔ ریڈزون میں داخلے کے لیے ایکسپریس چوک اور نادرا چوک بند کردیے گئے ہیں۔ اس سلسلے میں مارگلہ روڈ ،ایوب چوک اورسرینا چوک کےمتبادل راستے استعمال کیے جاسکتے ہیں۔

فیض آباد کے مقام پر راولپنڈی کی حدود میں پی ٹی آئی کی سیاسی سرگرمیوں کے تناظر میں پولیس کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی کارکنان نے جلسے کی تیاری کےلیے کنٹینر لگا کر سڑک بند کردی ہے، جس کی وجہ سے براستہ فیض آباد اسلام آباد کے داخلی اور خارجی راستے بند ہوگئے ہیں۔ پولیس کی جانب سے رہنما ہدایت جاری کی گئی ہے کہ شہری متبادل راستے اختیار کریں اور کسی بھی ہنگامی صورتحال میں پکار 15 پر کال کر یں۔

subscribe YT Channel install suchtv android app on google app store