الیکشن کمیشن نے پیسے پکڑے ہوئے ہیں، ایسے اداروں کو آگ لگا دیں: اعظم سواتی

وفاقی وزیر اعظم سواتی فائل فوٹو وفاقی وزیر اعظم سواتی

الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے معاملے پر سینیٹ قائمہ کمیٹی پارلیمانی امور میں وفاقی وزیر اعظم سواتی نے الیکشن کمیشن پر یلغار کردی اور الزام عائد کیا کہ الیکشن کمیشن حکومت کا مذاق اڑا رہا ہے اس نے پیسے پکڑے ہوئے ہیں۔

اجلاس میں چیئرمین کمیٹی سینیٹر تاج حیدر نے بتایا کہ الیکشن کمیشن نے ای وی ایم کے معاملے پر خط لکھا ہے جس ادارے کے قانون پر تحفظات، اعتراضات ہیں اس کو سنا جائے۔

اس موقع پر مشیر پارلیمانی امور بابر اعوان نے کہا کہ انہیں پہلے بات کرنے دی جائے، ایک ادارے کے مؤقف پر حکومت کا مؤقف بھی آنا چاہیے، اس ادارے کا مینڈیٹ آئین کے مطابق صاف شفاف الیکشن کرانا ہے، الیکشن کمیشن اپنی مرضی نہیں کرسکتا، وہ قانون سے اوپرنہیں، پارلیمنٹ کی قانون سازی کے اختیار پرکوئی اعتراضات، تحفظات نہیں لگاسکتا، الیکشن کمیشن اپنی سفارشات دے سکتا ہے، اعتراضات نہیں۔

بابر اعوان کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن نے یہ نہیں بتایا کہ الیکٹرانک ووٹنگ مشین سے سیکریسی کی پامالی کیسے ہوگی؟ سب سے زیادہ دھاندلی ڈسکہ میں ہوئی جس میں آر اوز کہیں چلے گئے تھے، ای وی ایم میں ایک نظام ہے جس سے سب کو سامنے گنتی ملے گی،کوئی اس میں ٹیمپر نہیں کرسکتا، مشین کونسی ہو اس سے حکومت کا کوئی لینا دینا نہیں، الیکشن کمیشن فیصلہ کرےگا، وزارت نے الیکشن کمیشن کو خط لکھا کہ اپنا بجٹ مطالبہ بتائیں مگر الیکشن کمیشن نے جواب نہیں دیا۔

وفاقی وزیر ریلوے اعظم سواتی نے کہا کہ الیکشن کمیشن حکومت کا مذاق اڑا رہا ہے، الیکشن کمیشن نے پیسے پکڑے ہوئے ہیں، آپ جہنم میں جائیں، ایسے اداروں کو آگ لگادیں، الیکشن کمیشن ملک کی جمہوریت کو تباہ کرنے کا ضامن ہے، الیکشن کمیشن ہمیشہ دھاندلی کرتا رہا ہے۔

سینیٹر اعظم سواتی کے الزامات پر الیکشن کمیشن حکام کمیٹی اجلاس سے واک آوٹ کرگئے تو سینیٹر فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ آئین سے الیکشن کمیشن کو نکال دیں، حکومت خود الیکشن کرائے۔

سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ جب سے الیکشن کمیشن با اختیار ہوا ہے انہیں تکلیف ہورہی ہے۔

اس موقع پر سینیٹر مصطفیٰ نواز کھوکھر کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن پر الزام بھی بہت سخت لگایا گیا ہے، اعظم سواتی بتائیں کہ الیکشن کمیشن نے کس سے پیسے لیے ہیں؟کیا الیکشن کمیشن نے ن لیگ یا پیپلزپارٹی سے پیسے لیے ہیں؟

وزیر مملکت علی محمد خان اورکامران مرتضیٰ الیکشن کمیشن حکام کو منانے گئے تو اسپیشل سیکرٹری الیکشن کمیشن ظفر اقبال نے کہا کہ وزرا نے گزشتہ روز ایوان صدرمیں اجلاس میں بھی بدتمیزی کی، آج کمیٹی اجلاس میں سنگین الزامات لگائے گئے، ایسے ماحول میں اجلاس میں شرکت نہیں کرسکتے، وزرا کے رویے سے چیف الیکشن کمشنر کو آگاہ کریں گے۔

بعد ازاں الیکشن کمیشن کا وفد قائمہ کمیٹی اجلاس چھوڑ کر پارلیمنٹ ہاؤس سے روانہ ہوگیا۔

واضح رہے کہ ای سی پی نے 7 ستمبر کو قائمہ کمیٹی میں جمع کرائے گئے ایک دستاویز میں خبردار کیا تھا کہ الیکٹرانک ووٹنگ مشینیں (ای وی ایم) ٹیمپرنگ کا شکار ہوسکتی ہیں اور سافٹ وئیر کو آسانی سے تبدیل کیا جا سکتا ہے۔

ای سی پی نے دستاویز میں نوٹ کیا تھا کہ 'یہ یقینی بنانا تقریباً ناممکن ہے کہ ہر مشین ایماندار ہو'۔

subscribe YT Channel install suchtv android app on google app store