جانیں تربوز کے متعلق وہ باتیں جو فائدے کے بجائے الٹا نقصان دہ ثابت ہوسکتی ہیں

جانیں تربوز کے متعلق وہ باتیں جو فائدے کے بجائے الٹا نقصان دہ ثابت ہوسکتی ہیں فائل فوٹو جانیں تربوز کے متعلق وہ باتیں جو فائدے کے بجائے الٹا نقصان دہ ثابت ہوسکتی ہیں

گرمی کے موسم میں تربوز کھانا کسے اچھا نہیں لگتا. ٹھنڈا میٹھا تربوز نہ صرف پیاس بجھاتا ہے بلکہ جسم کو تراوٹ بھی بخشتا ہے. البتہ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ چاول کے بعد تربوز نہیں کھانا چاہیے. آئیے جانتے ہیں کہ تربوز کن اوقات میں کھانا فائدے کے بجائے الٹا نقصان دہ ثابت ہوسکتا ہے.

تربوز میں پانی کی مقدار اور فائبر زیادہ ہوتا ہے، جو کہ زیادہ یا بھاری کھانے کے بعد کھایا جائے تو ہاضمے میں تکلیف، اپھارہ اور گیس کا سبب بن سکتا ہے۔ تربوز میں قدرتی شکر کی مقدار نسبتاً زیادہ ہوتی ہے، جو کھانے کے بعد کھانے سے بلڈ شوگر کی سطح میں تیزی سے اضافے کا سبب بن سکتی ہے.

تربوز میں پانی کی زیادہ مقدار ہاضمے کے خامروں کو کمزور کر سکتی ہے اور اگر کھانے کے بعد بہت جلد کھا لیا جائے تو پیٹ میں تکلیف، متلی یا الٹی ہو سکتی ہے۔ کھانے کے بعد تربوز کا استعمال ضروری غذائی اجزاء کے عدم توازن کا باعث بن سکتا ہے، کیونکہ پانی کی زیادہ مقدار دیگر غذائی اجزاء کے جذب کو کمزور کر سکتی ہے۔

کچھ افراد کو تربوز سے الرجی ہو سکتی ہے، اور اسے کھانے کے بعد کھانے سے الرجی پیدا ہو سکتی ہے یا خراب ہو سکتی ہے۔

چاول میں چونکہ پانی کی مقدار زیادہ ہوتی ہے اس لیے چاول کے بعد تربوز کھانا الٹی، متلی یہاں تک کے فوڈ پوائزننگ کا سبب بھی بن سکتا ہے.

بہتر ہے کہ پانی سے بھرپور پھل کو خالی پیٹ یا دن کے وقت کھایا جائے.

install suchtv android app on google app store