خیبرپختونخوا میں نمونیا کے وارتیزی سے جاری، 30 بچے جانبحق

 نمونیا نے 30بچوں کی جان لے لی فائل فوٹو نمونیا نے 30بچوں کی جان لے لی

خیبرپختونخوا میں کرونا اور ڈینگی کے بعد نمونیا بھی بے قابو ہو رہا ہے جس کے باعث محض گزشتہ 10 دنوں میں صوبے میں 30 بچے لقمۂ اجل بن چکے ہیں جبکہ 150 سے زائد اسپتالوں میں داخل ہیں۔

سردی میں اضافے کے ساتھ ہی 10 دنوں میں صورتحال کچھ ایسی بگڑتی جارہی ہے کہ اس موذی مرض سے سینکڑوں بچے متاثر ہوئے ہیں اور اسپتالوں میں جگہ بھی کم پڑتی جارہی ہے جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ اسپتال کے ایک بیڈ پر تین تا چار بجے زیر علاج ہیں۔

ڈاکٹرز کے مطابق یوں تو یہ موسم نمونیا کا ہے تاہم اس کی ایک بڑی وجہ حفاظتی ٹیکوں کا بروقت نہ لگنا بھی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ لوگ اسپتالوں میں دور دراز کے علاقوں سے آرہے ہیں اور بیشر ویکسینشن سے گریز کرتے ہیں۔

پشاور کے خیبر ٹیچنگ اسپتال کے ترجمان نے بتایا کہ اس وقت کے ٹی ایچ میں روزانہ 15 سے 20 بیس بچے آ رہے ہیں اور پچھلے ایک ہفتے کے دوران نمونیا سے متاثرہ 13 بچے لقمہ اجل بن چکے ہیں۔

اس صورتحال پر ڈی جی صحت کا کہنا تھا کہ حکومت کی اولین ترجیح بچوں کو علاج معالجے کی مناسب فراہمی کو یقینی بنانا ہے انہوں نے نمونیا سے بچاؤ کے لیے ویکسینیشن کو لازمی قرار دیا۔

 

subscribe YT Channel install suchtv android app on google app store