موسم سرما میں مالٹے کھانا عادت کیوں بنائیں؟ وجوہات جان لیں

مالٹے فائل فوٹو مالٹے

مالٹوں کا موسم واپس آگیا ہے اور یہ رسیلا ترش پھل لوگوں کو پسند بھی بہت ہے جس کے لیے ہر وقت پیٹ میں جگہ بن جاتی ہے۔

مگر کیا آپ کو معلوم ہے کہ مالٹے (قسم جو بھی ہو) میں عموماً صرف 85 کیلوریز ہوتی ہیں اور چربی، کولیسٹرول یا سوڈیم تو بالکل بھی نہیں ہوتے، یہی وجہ ہے کہ اس کے متعدد طبی فوائد بھی ہیں۔

وٹامن سی سے بھرپور یہ پھل جلد کے لیے بہتر ثابت ہوسکتا ہے، کولیسٹرول لیول، دل کی صحت اور نظام تنفس کے امراض سمیت کینسر سے بھی تحفظ دے سکتا ہے۔

یہاں آپ اس کے فوائد جان سکیں گے۔

وٹامن سی سے بھرپور

ایک مالٹے (اس کا انحصار قسم پر ہے) سے جسم کو وٹامن سی کی روزانہ درکار مقدار کا 70 فیصد حصہ مل جاتا ہے۔

وٹامن سی جسم کے مدافعتی نظام کو مضبوط بنانے کے لیے اہم کردار ادا کرتا ہے، جبکہ آئرن ذخیرہ اور جذب کرنے میں بھی جسم کی مدد کرتا ہے، جسم کو شریانوں، مسلز اور ہڈیوں کے کولیگن کو بنانے کے لیے بھی اس وٹامن کی ضرورت ہوتی ہے۔

معدے کے لیے بہترین

ایک درمیانے حجم کے مالٹے میں 3 گرام غذائی فائبر ہوتا ہے، فائبر نہ صرف قبض کی روک تھام یا اس سے ریلیف دلانے کے لیے اہم ہوتا ہے بلکہ آنتوں کو صحت مند، کولیسٹرول ک یسطح میں کمی اور بلڈ شوگر لیول کو بھی کنٹرول کرتا ہے۔

مالٹوں میں موجود فائبر پیٹ کو دیر تک بھرے رکھنے میں بھی مددگار ہے، یعنی کم کھانا ممکن ہوتا ہے جس سے صحت مند جسمانی وزن کو مستحکم رکھنا آسان ہوتا ہے۔

کولیسٹرول کی سطح میں کمی سے امراض قلب بشمول ہارٹ اٹیک اور فالج کا خطرہ بھی کم ہوتا ہے۔

ورم کش پھل

ہر مالٹے میں 170 phytochemicals اور 60 فلیونوئڈز ہوتے ہیں، آسان الفاط میں زبردست ورم کش خصوصیات سے لیس ہوتا ہے۔

مالٹے اور دیگر اینٹی آکسسائیڈنٹس سے بھرپور اشیا طویل المعیاد ورم سے لڑنے کے لیے ادویات سے زیادہ طاقتور ثابت ہوتے ہیں۔

جسم میں ورم کا زیادہ دورانیہ کینسر، امراض قلب، ذیابیطس، جوڑوں کے امراض، ڈپریشن اور الزائمر جیسے امراض کا خطرہ بڑھاتا ہے۔

پوٹاشیم کے حصول کا بہترین ذریعہ

ویسے تو کیلوں کو پوٹاشیم کے حوالے سے بہترین سمجھا جاتا ہے مگر مالٹے بھی اس معاملے میں زیادہ پیچھے نہیں۔

ایک مالٹے میں پوٹاشیم کی 240 ملی گرام ،قدار پوتہ پے کو اعصاب اور مسلز کے لیے ایندھن کا کام کرتی ہے جبکہ بلڈ پریشر کو بھی کنٹرول کرتی ہے۔

فولیٹ کی موجودگی

ہمارے جسم کو بی وٹامن کی اس قسم یعنی فولیٹ کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ ڈی این اے اور دیگر جینیاتی مواد تیار کرسکے اور خلیات کو تقسیم رکھ سکے۔

یہ بالخصوص حاملہ خواتین کے لیے بہت ضروری ہوتا ہے، فولیٹ سے بچوں میں دماغ اور ریڑھ کی ہڈی کے پیدائشی نقص کی روک تھام میں بھی مدد ملتی ہے۔

بیٹا کیروٹین

بیٹا کیروٹین وہ جز ہے جو مالٹوں کو نارنجی رنگ دیتا ہے۔

بیٹا کیروٹین ایک طاقتور اینٹی آکسائیڈنٹ ہے جو خلیات کی صحت کو بہتر کرتا ہے اور جسم میں گردش کرنے والے فری ریڈیکلز سے ہونے والے نقصان کو کم کرتا ہے۔

فری ریڈیکلز جسم میں موجود ایسے مالیکیولز ہوتے ہیں جو اس وقت بنتے ہیں جب ہمارا جسم غذا کو ٹکڑے کرتا ہے یا جسمانی سرگرمیوں کے دوران اضافی آکسیجن کی ضرورت ہوتی ہے۔

فری ریڈیکلز مالیکیولز کی شرح میں تمباکو نوشی سے بھی اضافہ ہوتا ہے۔

تھایامین کا حصول

تھایامین یا بی 1 نامی یہ وٹامن جسم کو دیگر غذائی اجزا کو پراسیس کرنے اور خوراک کو توانائی میں بدلنے میں مدد فراہم کرتا ہے۔

یہ ہمارے جسم کے ہر خلیے کی بنیادی ضرورت ہے اور یہ مالٹوں کے علاوہ پاستا، چاول میں بھی پایا جاتا ہے، مگر مالٹے اس کے حصول کا اچھا ذریعہ ہے۔

جوس سے زیادہ بہتر پھل

ویسے تو دونوں ہی جسم کے لیے مفید ہیں مگر اورنج جوس کی بجائے پھل کو ترجیح دینا بہتر ہوتا ہے۔

اورنج جوس میں اکثر فائبر کی مقدار گھٹ جاتی ہے یا ہوتی ہی نہیں جبکہ ایک مالٹے سے جسم کو 3 گرام فائبر ہوتا ہے۔

مالٹے کی سفید لڑیاں بھی فائدہ مند

اکثر افراد مالٹوں کے گودے پر چپکی سفید لڑیوں کو اتار دیتے ہیں کیونکہ اس سے پھل کا ذائقہ کچھ تلخ ہوجاتا ہے۔

مگر یہ لڑیاں کیلشیئم، فائبر، وٹامن سی اور مدافعتی نظام کو مضبوط بنانے والے فلیونوئڈز سے بھرپور ہوتی ہیں۔

subscribe YT Channel install suchtv android app on google app store