سال 2021 کے طب کا نوبیل انعام 2 امریکی سائنسدانوں کے نام

یونیورسٹی آف کیلی فورنیا کے ڈاکٹر پروفیسر ڈیوس جولیس اور کیلی فورنیا کے اسکرپ ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے پروفیسر ڈاکٹر آرڈم پیٹاپوٹیم فائل فوٹو یونیورسٹی آف کیلی فورنیا کے ڈاکٹر پروفیسر ڈیوس جولیس اور کیلی فورنیا کے اسکرپ ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے پروفیسر ڈاکٹر آرڈم پیٹاپوٹیم

دنیا کا اعلیٰ ترین انعام دینے والی سویڈن کی سویڈش اکیڈمی آف نوبیل نے سال 2021 کے طب کا نوبیل انعام 2 امریکی سائنسدانوں کو دے دیا۔

خیال کیا جا رہا تھا کہ اس سال ممکنہ طور پر طب کا نوبیل انعام کورونا سے تحفظ کی ویکسین بنانے والے ماہرین کو دیا جائے گا۔

ساتھ ہی یہ چہ مگوئیاں بھی تھیں کہ ممکنہ طور پر اس سال ’ایم این آر اے‘ ویکسین ٹیکنالوجی دریافت کرنے والے دو ماہرین کو بھی انعام دیا جا سکتا ہے لیکن ایسا نہیں ہو سکا۔

سویڈش اکیڈمی آف نوبیل نے 4 اکتوبر کو طب کا انعام سان فرانسسکو کی یونیورسٹی آف کیلی فورنیا کے ڈاکٹر پروفیسر ڈیوس جولیس اور کیلی فورنیا کے اسکرپ ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے پروفیسر ڈاکٹر آرڈم پیٹاپوٹیم کو دینے کا اعلان کردیا۔

نوبیل پرائز کی ویب سائٹ کے مطابق دونوں ماہرین کو جسمانی درج حرارت اور احساسات کو دریافت کرنے پر انعام دیا گیا۔

دونوں ماہرین نے دریافت کیا کہ کس طرح انسانی جسم سورج کو تپش کو محسوس کرتا ہے اور انسان جب ایک دوسرے سے گلے ملتے ہیں تو جسم میں کس طرح کے احساسات پیدا ہوتے ہیں۔

ان ہی ماہرین کی دریافت کے بعد ہی بخار اور اعصاب شکن درد سمیت کئی جسمانی بیماریوں کا علاج دریافت ہوا۔

دونوں ماہرین نے دریافت کیا کہ کس طرح ہمارا جسم محسوسات اور احساسات کو اعصابی نظام تک پہنچا کر بیماریاں یا خوشی فراہم کرتا ہے۔

گزشتہ برس طب کا نوبیل انعام برطانیہ کے سائنسدان مائیکل ہوٹن اور امریکا کے ہاروی آلٹر اور چارلز رائس کو مشترکہ طور پر دینے کا اعلان کیا تھا، تینوں سائنسدانوں کو 'ہیپاٹائٹس سی' کا مرض دریافت کرنے پر انعام دیا گیا تھا۔

طب کا نوبیل انعام کمیٹی کی جانب سے 1919 سے دیا جا رہا ہے اور اب تک یہ انعام 114 شخصیات کو دیا جا چکا ہے، جس میں سے 12 خواتین تھیں۔

کمیٹی نوبیل انعام جیتنے والوں کو ہر سال دسمبر میں انعامات دیتی ہے اور انعامات دینے کی تقریب سویڈن میں ہی منعقد ہوتی ہے، تاہم امن کے نوبیل انعام دینے کی تقریب دوسرے ملک میں ہوتی ہے۔

install suchtv android app on google app store