موڈرنا ویکسین کی کم مقدار پر مبنی خوراک کا اثر کم از کم 6 ماہ تک برقرار رہتا ہے

موڈرنا ویکسین فائل فوٹو موڈرنا ویکسین

کووڈ ویکسین سے بیماری کے خلاف مدافعت کتنے عرصے تک برقرار رہ سکتی ہے؟ اس بارے میں یقین سے کچھ کہنا مشکل ہے۔

مگر ایک نئی تحقیق میں اس حوالے سے نیا تخمینہ سامنے آیا ہے۔

امریکا کے لا جولا انسٹیٹوٹ آف امیونولوجی کی اس تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ موڈرنا ویکسین کی کم مقدار پر مبنی خوراک کا اثر کم از کم 6 ماہ تک برقرار رہتا ہے اور ویکسینیشن کرانے والوں کو اضافی خوراک کی ضرورت نہیں۔

تحقیق میں بتایا گیا کہ یہ وقت بہت اہم ہے کیونکہ اس عرصے میں حقیقی مدافعتی یادداشت تشکیل پانے لگتی ہے۔

تحقیق میں مزید بتایا گیا کہ موڈرنا کووڈ ویکسین سے ٹھوس سی ڈی 4 پلس ہیلپر ٹی سی، سی ڈی 8 پلس کلر ٹی سیل اور اینٹی باڈی ردعمل ویکسینیشن مکمل ہونے کے بعد کم از کم 6 ماہ بعد برقرار رہتا ہے۔

اس سے عندیہ ملتا ہے کہ بیماری کے خلاف مدافعتی ردعمل زیادہ طویل عرصے تک برقرار رہ سکتا ہے۔

تحقیق میں یہ بھی ثابت ہوا کہ اس ٹھوس مدافعتی یادداشت کا تسلسل ہر عمر کے گروپ بشمول 70 سال سے زائد عمر کے افراد میں برقرار رہتا ہے، جن میں بیماری کی سنگین شدت کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔

محققین نے بتایا کہ یہ مدافعتی یادداشت مستحکم رہتی ہے جو کہ متاثر کن ہے، جس سے ایم آر این اے ویکسینز کے دیرپا ہونے کا اچھا عندیہ ملتا ہے۔

تحقیق کے لیے ایسے افراد کے ڈیٹا کی جانچ پڑتال کی گئی جن کو موڈرنا ویکسین کی 25 مائیکرو گرام کی خوراک کلینکل ٹرائل کے پہلے مرحلے میں استعمال کرائی گئی تھی۔

محققین نے بتایا کہ ہم دیکھنا چاہتے تھے کہ ایک خوراک کا چوتھائی حصہ استعمال کرنے سے بھی کسی قسم کا مدافعتی ردعمل بنتا ہے یا نہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں موڈرنا ویکسین کے کلینکل ٹرائل کے پہلے مرحلے میں شامل ایسے افراد کے نمونے حاصل کرنے کا موقع ملا جن کو ویکسین کے 25، 25 مائیکرو گرام کے انجیکشن 28 دن کے وقفے سے استعمال کرائے گئے تھے۔

لوگوں کو موڈرنا ویکسین کی 100 مائیکرو گرام کی ایک خوراک استعمال کرائی جاتی ہے اور پہلے معلوم نہیں تھا کہ کم مقدار کس حد تک فائدہ مند ہے۔

مگر اب اس نئی تحقیق سے معلوم ہوا کہ کم مقدار بھی اسٹینڈرڈ ڈوز کی طرح ٹی سیل اور اینٹی باڈی ردعمل کو پیدا کرتی ہے اور اس کا تسلسل بھی کئی ماہ بعد برقرار رہتا ہے۔

درحقیقت ماہرین نے دریافت کیا کہ موڈرنا ویکسین سے لگ بھگ ویسا ہی مدافعتی ردعمل بنتا ہے جو قدرتی بیماری سے پیدا ہوتا ہے۔

مگر محققین کا کہنا تھا کہ ابھی یہ تعین کرنا باقی ہے کہ ویکسین کی کم مقدار کس حد تک تحفظ فراہم کرسکتی ہے اور یہ فیصلہ کلینکل ٹرائل سے ہی ہوسکے گا۔

مگر کیا دیگر کووڈ ویکسینز کا مدافعتی ردعمل بھی اسی طرح ٹھوس ہوسکتا ہے، اس حوالے سے محققین کی جانب سے مزید تحقیق کی جارہی ہے۔

مگر ان کا کہنا ہے کہ حقیقی دنیا کے ڈیٹا سے عندیہ ملتا ہے کہ مدافعتی یادداشت دیرپا ہوسکتی ہے۔

اس تحقیق کے نتائج طبی جریدے سائنس میں شائع ہوئے۔

subscribe YT Channel install suchtv android app on google app store