ڈرامہ نگار، شاعر اور کالم نویس منیر احمد قریشی کو مداحوں سے بچھرے3 سال بیت گئے

ڈرامہ نگار، شاعر اور کالم نویس منیر احمد قریشی  کو مداحوں سے بچھرے3 سال بیت گئے فائل فوٹو ڈرامہ نگار، شاعر اور کالم نویس منیر احمد قریشی کو مداحوں سے بچھرے3 سال بیت گئے

ڈرامہ نگار، شاعر اور کالم نویس منو بھائی کو دنیا سے کوچ کیے تین برس بیت گئے مگر ان کی تحریریں اور ڈرامے آج بھی زندہ ہیں۔منیر احمد قریشی عرف منو بھائی نے 1933 کو پنجاب کے شہر وزیرآباد میں آنکھ کھولی۔ شاعری اور کالم نگاری انہیں ورثے میں ملی۔

منو بھائی کالم نگاری کے میدان میں پاکستان سمیت پوری دنیا میں مشہور تھے۔ انہوں نے پی ٹی وی کے لیے کئی نامور ڈرامے بھی لکھے جن میں سونا چاندی، جھوک سیال شامل ہیں۔

ان کی مشہور تصانیف میں جنگل اداس ہے، محبت کی ایک سو نظمیں اور انسانی منظر نامہ شامل ہے۔

منو بھائی بچوں سے خصوصی شفقت رکھتے تھے۔ انسانیت سے محبت کرنے والے منو بھائی نے تھیلیسیمیا میں مبتلا بچوں کیلئے سندس فاؤنڈیشن کی بنیاد رکھی اس تنظیم کے چیئرمین بھی رہے۔

ان کی خدمات کے اعتراف میں حکومت نے انہیں تمغہ برائے حسن کارکردگی سے بھی نوازا۔

منو بھائی گردے اور دل کے عارضے میں مبتلا رہنے کے بعد 19 جنوری 2018 کو اس جہانِ فانی سے کوچ کر گئے۔

subscribe YT Channel install suchtv android app on google app store