مودی حکومت کی قتل وغارت کے خلاف بولنا جرم بن گیا، ہندو فلمساز انوراگ کشپ کو دھمکیاں

مودی حکومت کی قتل وغارت کے خلاف بولنا جرم بن گیا، ہندو فلمساز انوراگ کشپ کو دھمکیاں فائل فوٹو مودی حکومت کی قتل وغارت کے خلاف بولنا جرم بن گیا، ہندو فلمساز انوراگ کشپ کو دھمکیاں

انڈین وزیراعظم نریندر مودی کے خلاف بولنے والے ہندو بھی اپنے ملک میں محفوظ نہیں ہیں۔ دھمکیاں ملنے پر فلمساز انوراگ کشپ نے اپنا ٹویٹر اکاؤنٹ ڈیلیٹ کر دیا۔

بھارتی فلمساز نے انوراگ کشپ نے اپنی ٹویٹ میں لکھا تھا کہ مودی مخالف موقف پر میرے والدین اور بیٹی کو دھمکیاں دی گئیں۔ عقل اور دلیل کی بنیاد پر بات کرنا بھارت میں ممکن نہیں رہا۔
انوراگ کشپ نے لکھا کہ ٹھگوں کی حکومت اور ٹھگ بن کے ہی زندگی گزارنا پڑے گی۔ اس نئے بھارت پر تمام بھارتیوں کو مبارکباد پیش کرتا ہوں۔

خیال رہے کہ انوراگ کشپ کا شمار بھارت کی ان شخصیات میں ہوتا ہے جنہوں نے گزشتہ ماہ 23 جولائی کو وزیراعظ٘م نریندر مودی کو خط لکھ کر ان سے درخواست کی تھی کہ وہ ملک میں بڑھتی ہوئی بدامنی، ہجوم کے ہاتھوں لوگوں کے قتل کے بڑھتے واقعات کی روک تھام کیلئے انھیں خصوصی مداخلت کریں۔

install suchtv android app on google app store