ایکنک کی سیٹلائٹ ٹیکنالوجیز اور روڈ انفرااسٹرکچر منصوبوں کی منظوری

ایکنک نے 190 ارب روپے کے روڈ انفرااسٹرکچر منصوبوں کی منظوری دے دی فائل فوٹو ایکنک نے 190 ارب روپے کے روڈ انفرااسٹرکچر منصوبوں کی منظوری دے دی

قومی اقتصادی کونسل کی ایگزیکٹو کمیٹی (ایکنک) نے پاکستان میں سڑک کے بنیادی ڈھانچے اور سیٹلائٹ ٹیکنالوجیز میں خود انحصاری کے حصول سے متعلق 190 ارب روپے کے منصوبوں کی منظوری دے دی۔

وزیر برائے منصوبہ بندی و ترقی اسد عمر کی زیر صدارت ایکنک کے اجلاس میں وزیر صنعت خسرو بختیار اور وفاقی سیکریٹریز نے شرکت کی جس میں اسپیس اینڈ اپر ایٹموسفیئر ریسرچ کمیشن (سپارکو) کے پاکستان آپٹیکل ریموٹ سینسنگ سیٹلائٹ (پی آر ایس ایس-02) منصوبے کی منظوری دی گئی جس پر 27 ارب روپے لاگت آئے گی۔

یہ منصوبہ خلائی/سیٹلائٹ ٹیکنالوجی اور اس کی ایپلی کیشنز، سپارکو کی ادارہ جاتی صلاحیت کی تعمیر اور ملک میں ہائی ٹیک ریسرچ اور ترقیاتی سرگرمیوں کو فروغ دینے کے شعبوں میں مقامی صلاحیت کی تعمیر میں مدد کرے گا۔

یہ منصوبہ پاکستان میں سیٹلائٹ ٹیکنالوجیز میں خود انحصاری کے حصول میں معاون ثابت ہوگا۔

ایکنک نے وزارت مواصلات کی جانب سے پیش کردہ سیالکوٹ (سمبڑیال)۔ کھاریاں موٹروے منصوبے کی منظوری دے دی، ساتھ ہی نیشنل ہائی وے اتھارٹی (این ایچ اے) کو بزنس ماڈل کی ترقی کے بارے میں پیش رفت رپورٹ کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) کو پیش کرنے کی ہدایت کی۔

منصوبے کے تحت سمبڑیال سے کھاریاں تک چار لین پر مشتمل 69 کلومیٹر طویل موٹروے تعمیر کی جائے گی۔

اعلامیہ کے مطابق اجلاس میں نیو گوادر انٹرنیشنل ایئرپورٹ (این جی آئی اے) کے دوسرے نظرثانی شدہ منصوبے کی منظوری دی گئی۔

نظرثانی شدہ پروجیکٹ میں پہلے سے حاصل کی گئی زمین کے ایک ٹکڑے پر متعلقہ سہولیات کے ساتھ این جی آئی اے کی تعمیر کا تصور پیش کیا گیا ہے۔

این جی آئی اے گوادر کے موجودہ ہوائی اڈے کی جگہ لے گا جس کی محدود صلاحیت کے ساتھ چھوٹی ٹرمینل عمارت ہے۔

نیا ہوائی اڈہ ایئربس اے 380، بوئنگ 747 اور 777 جیسے بڑے طیاروں کی بین الاقوامی اور مقامی خدمات کے لیے موزوں ہوگا۔

ایکنک نے اسلام آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (آئسکو) میں ایشیائی ترقیاتی بینک کے فنڈڈ ایڈوانسڈ میٹرنگ انفرااسٹرکچر (اے ایم آئی) پر وزارت توانائی کے ایک منصوبے کی بھی منظوری دی۔

اس منصوبے کو بغیر کسی تاخیر کے ایک پائلٹ پروجیکٹ کے طور پر شروع کرنے اور دیگر الیکٹرک کمپنیوں کو بھی شامل کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔

اس منصوبے میں تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکوز) کے زیر انتظام بجلی کی تقسیم کے نظام کے انٹرفیس تک لوڈ کنٹرول اور لوڈنگ مینجمنٹ کو بڑھانے کا تصور پیش کیا گیا ہے۔

اے ایم آئی پروجیکٹ کو آئسکو کے مخصوص علاقوں میں نقصانات کو کم کرنے اور سپلائی کو مؤثر طریقے سے متوازن کرنے کے لیے سب سے کم لاگت کے حل کے طور پر ڈیزائن کیا گیا ہے۔

اجلاس نے ایکنک کے 2004 کے فیصلے میں ترامیم اور وزارت توانائی کی جانب سے جمع کرائے گئے تقسیم کار کمپنیوں/اداروں کی سیلف فنانس ڈیولپمنٹ اسکیموں کی منظوری کے لیے پوزیشن پیپر کی بھی منظوری دی۔

subscribe YT Channel install suchtv android app on google app store