Sun 20 August 2017

سرحدی تنازع: پاکستان، افغانستان کا گوگل میپس سے مدد لینے کا فیصلہ

پاکستان اور افغانستان نے سرحدی تنازع کے حل میں مدد کے لیے ’گوگل میپس‘ کے استعمال کی منصوبہ بندی کا آغاز کردیا۔

غیر ملکی خبر رساں ایجنسی ’اے ایف پی‘ کے مطابق پاکستان نے جمعہ کے روز افغان بارڈر فورسز کی جانب سے چمن کے پاک ۔ افغان سرحدی علاقے میں مردم شماری ٹیم کی سیکیورٹی پر مامور اہلکاروں پر فائرنگ کے نتیجے میں 12 افراد کے ہلاک اور 40 سے زائد کے زخمی ہونے کے بعد سرحد بند کردی تھی۔

پاکستان کو 1947 میں آزادی کے وقت اپنے مغربی پڑوسی افغانستان کے ساتھ 2 ہزار 400 کلومیٹر طویل سرحد، جسے ’ڈیورنڈ لائن‘ کہا جاتا ہے، ورثے میں ملی تھی، تاہم افغانستان ڈیورنڈ لائن کو تسلیم کرنے سے انکار کرتا ہے۔

افغانستان کے سرکاری میپس میں ’ڈیورنڈ لائن‘ موجود ہے جبکہ بیشتر قوم پرستوں کا ماننا ہے کہ افغانستان کی اصل سرحد دریائے سندھ پر ختم ہوتی ہے۔

اسلام آباد میں موجود سینئر پاکستانی سیکیورٹی ذرائع نے شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ’دونوں ممالک کے جیولوجیکل سروے ڈیپارٹمنٹ کے حکام ایک سروے کرائیں گے، جبکہ وہ گوگل میپس کا بھی استعمال کریں گے۔‘

افغانستان نے صوبہ قندھار کے پولیس چیف عبدالرازق نے کہا کہ ’مذاکرات کے بعد دونوں ممالک نے ارضیاتی سروے پر اتفاق کیا ہے۔‘ ان کا کہنا تھا کہ ’دونوں ممالک کے تکنیکی ٹیمیں جوابات حاصل کرنے کے لیے دیگر ذرائع کے علاوہ جی پی ایس اور گوگل میپس بھی استعمال کریں گی۔‘

واضح رہے کہ پاکستان وقتاً فوقتاً افغانستان کے ساتھ اپنی سرحد کو باڑ لگانے اور خندقوں کے ذریعے محفوظ بنانے کی کوشش کرتا رہا ہے، تاہم اسے اپنی ان کوششوں کا صلہ کابل کی جانب سے کشیدگی پیدا کرنے کی صورت میں ملتا ہے۔

سرحدی خطے میں قیام پذیر پشتون افراد روایتی طور پر اس طرف کم ہی توجہ دیتے ہیں، جبکہ سرحدی علاقے میں کئی گاؤں ایسے بھی ہیں جن کی مساجد اور گھروں کا ایک دروازہ پاکستان تو دوسرا افغانستان میں کُھلتا ہے۔