Fri 18 August 2017

پاکستان، ہندوستان میں سیریز کھیلنے کیلئے تیار: شہریار خان

شہریار خان شہریار خان

پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین شہریار خان نے کہا ہے کہ سیکیورٹی خدشات کے باوجود پاکستان سیریز کھیلنے کیلئے ٹیم ہندوستان بھیجنے کیلئے تیار ہے۔ شہریار نے کہا کہ ہم ہندوستان میں کھیلنے کیلئے تیار ہیں لیکن ہندوستانی کرکٹ بورڈ اپنے ملک میں بھی ہمارے ساتھ اپنی ٹیم کو کھلانے کیلئے تیار نہیں۔

جمعرات کو کراچی پریس کلب میں میڈیا کے نمائندوں سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حتیٰ کہ انٹرنیشنل کرکٹ کونسل نے بھی تسلیم کیا کہ دنیائے کرکٹ میں ہندوستان اور پاکستان کے درمیان سیریز سب سے زیادہ اہم ہے، دونوں ٹیموں کے درمیان سیریز سے بہت زیادہ مالی فوائد حاصل ہوتے ہیں۔

چیئرمین پی سی بی نے کہا کہ ہم اپنے پروگرام کو طے شدہ شیڈول کے مطابق رکھیں گے لیکن ہندوستان سے سیریز نہ کھیلنے سے ہماری آمدنی کو بہت نقصان پہنچے گا۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے ہندوستان سے جو معاہدہ کیا تھا اس میں کہیں بھی اس بات کا تذکرہ نہیں کہ پاکستان سے کھیلنے کا انحصار حکومتی اجازت سے مشروط ہے اور اس حوالے سے تازہ خط کا ہندوستان نے جواب دینا ہے۔

کراچی میں کرکٹ میں واپسی کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میں خود کراچی سے ہوں اور چاہتا ہوں کہ میرے شہر میں کرکٹ واپس آئے۔

ان کا کہنا تھا کہ دو سال میں شہر میں دہشت گردی کا کوئی بڑا واقعہ نہیں ہوا اور ہم کراچی کے حوالے سے خصوصی لائحہ عمل تیار کرنے پر کام کر رہے ہیں۔

شہریار خان نے کہا کہ چاہے پاکستان سپر لیگ ہو یا انٹرنیشنل کرکٹ، ہم کوشش کریں گے کہ اہم میچز کا انعقاد کراچی میں کیا جائے جہاں سے پاکستان کو چند بڑے کرکٹرز ملے ہیں۔

اس موقع پر انہوں نے کہا کہ پاکستان نے بنگلہ دیش میں بخوشی لگاتار دو سیریز کھیلیں لیکن جب تک بنگلہ دیش دورہ نہیں کرتا، ہم لگاتار تیسری مرتبہ سیریز نہیں کھیل سکتے لیکن خوشگوار ماحول میں بنگلہ کرکٹ انتظامیہ کے ساتھ بیٹھ کر اس کا حل نکال لیں گے۔

اسپاٹ فکسنگ کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے چیئرمین پی سی بی نے وضاحت کی کہ اس بات میں کوئی صداقت نہیں کہ پی سی بی کھلاڑیوں پر بیان دینے کیلئے ڈال رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایک قانونی مقدمہ ہے اور اگر اپنی غلطی تسلیم کرنے سے انہیں فائدہ ہو گا تو بورڈ ہمیشہ کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی کرے گا کہ وہ ایسا کریں۔

شہریار نے محمد عرفان کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ فاسٹ باؤلر نے اپنی غلطی تسلیم کی جس سے ان کا فائدہ ہوا اور انہوں نے تسلیم کیا کہ بورڈ کو معاملے کے بارے میں آگاہ نہ کرنا ان کی غلطی تھی۔