Sun 19 November 2017

پنجاب نہیں جاؤں گی ۔۔ ایک خوبصورت فیملی فلم

ایک خوبصورت فیملی فلم فائل فوٹو ایک خوبصورت فیملی فلم

خلیل الرحمن قمر نے فلم ’’پنجاب نہیں جاؤں گی‘‘ کو جس طرح تحریر کیا، انہوں نے ثابت کردیا کہ وہ معرفت پر مبنی کہانیوں کو پیش کرنے والے منجھے ہوئے لکھاری ہیں۔ جاندار ڈائیلاگز نے پنجاب نہیں جاؤں کو ایسے نکھار دیا ، کہ اس فلم کا ہر دوسرا ڈائیلاگ بے مثال اور عمدہ ہے۔

گذشتہ چھ برس سے الیکٹرانک میڈیا سے وابستہ ہیں. شوبز, آرٹ اینڈ کلچرل اور ہیومن اینگل ایشوز پر بلاگ بھی تحریر کرتیں ہیں۔

پنجاب نہیں جاؤں گی فلم کی کہانی فیصل آباد سے تعلق رکھنے والے زمیندار فواد کھگا (ہمایوں سعید) اور لندن سے اکنامکس میں ماسٹر کرنے والی امل (مہوش حیات) کے گرد گھوم رہی ہے۔ فواد کھگا جو ایک تصویر کو دیکھ کر امل کو اپنی ہیر بنانے کی خواہش کرنے لگتا ہے لیکن امل کسی کو پسند کرتی ہے، اسی لیے فواد کھکگا کے ساتھ شادی سے انکار کر دیتی ہے۔

فواد کی اچانک ہونے والی محبت کی منطق سمجھ سے کچھ بالاتر تو ہے لیکن کہانی چلتی ہے اور فواد مختلف طریقوں سے خود کو امل کا رانجھا ثابت کرتا ہے اور بالاخر امل کو اپنی ہیر بنا لیتا ہے۔فلم میں دیہی اور شہری زندگی کے مابین فرق اور پنجاب کی ثقافت کی ترجمانی بے حد خوبصورت انداز کے ساتھ کی گئی۔ ساتھ ہی دو مختلف ثقافتوں کے امتزاج کے ساتھ نبھائے جانے والے بندھن کو بھی دکھایا گی۔

فلم میں اداکاری کے جوہر دکھانے والے فنکاروں میں ہمایوں سعید، مہوش حیات، عروہ حسین، بہروز سبزواری، اظفر رحمان، صبا پرویز ، وسیم عباس، سہیل احمد اور احمد بٹ سمیت دیگر منجھے ہوئے اداکار شامل ہیں۔

فلم میں مرکزی کردار کھگا کا ہے جس کے (ہمایوں سعید) نے خوب انصاف کیا۔اس فلم میں جہاں امل کو بااختیار خاتون کے طور پر دکھایا گیا کہ بہت سے معاملات میں امل کے فیصلوں کو ترجیع دی گی، تاہم اس فلم میں ہمایوں اور مہوش (یعنی فواد اور امل) کی کیمسٹری ایک لو اسٹوری جیسی کم ہی معلوم ہوئی۔ گانوں میں تو یہ دونوں ایک ساتھ دکھائی دیئے لیکن ان دونوں کے مابین زیادہ تر ڈائیلاگز ضد پر مبنی زیادہ نظر آئے۔

عروہ حسین نے اسکرین پر کم ہی نظر آئیں، لیکن دردانہ (عروہ) کا کام معیاری نظر آیا، تاہم فواد اور دردانہ کے مابین فلم کا ایک ڈائیلاگ خاصہ مقبول ہوا۔عموماً دیہاتی لڑکے اور شہری لڑکی سے جوڑ کر جو کہانیاں بنائی گئیں ہیں اس فلم کی کہانی ان سے یکسر مختلف ثابت ہوئی۔

البتہ فلم کے ابتدائی چند منٹ کے سینز میں ڈرامے کی جھلک محسوس ہوئی، لیکن پھر فواد کے کراچی آنے کے بعد سے فلم میں جان آگئی۔ فلم کا کلائیمکس اس کے انٹرویل پر ہوا۔پنجاب نہیں جاوں گی کی عکس بندی خوبصورت انداز میں کی گئی، جس میں پنجاب کے لہلہاتے کھیت بھی دکھائی دیئے اور وہ حویلی جس میں کھگا خاندان آباد ہوتا ہے اس کی منظر کشی بے حد دلکش انداز میں کی گئی۔

پروڈکشن کے اعتبار سے فلم کے شاٹس بھی خوبصورت انداز میں فلمائے گئے۔فلمی نغمات کو فلمی سین کے لحاظ سے جوڑا گیا، اور کہیں بھی ایسا معلوم نہیں ہوا کہ کسی گانے کی فلم میں ضرورت نہ ہو۔ فلم کے گانے ’’میرا ٹونٹی فور سیون‘‘ میں شادی بیاہ کے لحاظ سے ڈانس پرفارم کیا گیا جس کیلئے ڈانسرز کو زیادہ محنت کرنے کی ضرورت تھی۔

کیونکہ بہت سے اسٹیپس میں کاسٹ سے لے کر ایکسٹراز نے جلد بازی اور اجلت کا مظاہرہ کیا۔امید ہے کہ ’’پنجاب نہیں جاوں گی‘‘ عید کے موقع پر نمائش کیلئے پیش کی جانے والی ایک خوبصورت فیملی فلم ثابت ہوگی۔

Leave a comment

Make sure you enter all the required information, indicated by an asterisk (*). HTML code is not allowed.